Friday, April 12, 2013

جمہوریت مخالف دعوت سے سیکولرجماعتوں کوفائدہ ۔۔۔!

محمدیوسف شاہ


جمہوریت و  انتخابات کے بارے میں دینی و شرعی احکامات بیان کرنے اور  اس گھن چکر کے فتنہ و فساد سے ہوشیار کرنے کی دعوتی مہم کے حوالہ سے بعض احباب  نے اس خدشے کااظہارکیاکہ الیکشن کے موقع پرکہیں یہ سرگرمیاں    لادین جماعتوں کی تقویت کاباعث نہ بن جائیں۔ یہ مضمون اِسی اشکال کی وضاحت میں لکھاگیاہے۔  اللہ ہمیں حق کوحق دکھائے، اتبائے حق کی توفیق سےنوازے اورباطل کوباطل دکھاکر اس سے بچنےکی توفیق سے نوازے ۔آمین۔

سیکولرجماعتوں کوجمہوریت مخالف  دعوت نے نہیں، بلکہ  جمہوریت کوکفر اورظلم نہ کہنے نے  فائدہ  دیا ہے!

اس مضمون میں ‘‘فائدہ’’سے مراد  حکومتی مناصب  کاحصول ہے، نہ کہ عوام کوباہمی مفادات کے لالچ  کے ذریعے اپنے اردگردجمع کرنا۔اسلامی جماعتوں کے ہاں ‘‘فائدہ’’ سے مراد ملک   کے نظام اجتماعی کو اسلام کے مطابق ڈھالنے اور دین  غالب کرنے کے ہدف  میں کامیابی ہے ۔ اس کے برعکس سیکولرزکے لیے‘‘فائدہ’’ کامطلب ان کاپاکستان کولادینیت  پرڈالنے کے مقصد کی جانب پیش قدمی ہے۔ اس تناظرمیں پاکستان کی تاریخ پرنظرڈالی جائے تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ سیاسی دینی جماعتوں  کے جمہوریت کواسلامی  کہنے،سیکولرحکومت چلانے والوں کے خلاف  بطوردشمن  کھڑاہونے  کی بجائے  اس کفریہ نظام کاحصہ  بننے نے ہی  یہاں کے سیکولرطبقوں کونقصان سے بچایاہے۔  یہاں کی عوام  دین  بیزاریادین دشمن نہیں،اسلام سے محبت کرنے والی  اوراسلام  ہی کویہاں غالب دیکھنے کے لیے انگریزسے آزادی  لینے کی تحریک سے لیکرآج تک بے شمارقربانیوں کے سمندرپاٹنے  والی عوام ہے۔ یہاں کی عوام کا دین سے نہ ٹوٹنے والارشتہ ہی  توہے کہ ملک کی تاریخ میں کفرنافذکرنے والے  کسی ایک  بدترین  دین دشمن  حکمران  نے بھی کبھی  کھل کرلادینیت کی دعوت  دینے کی جرأت اوراسلام کے نام کااستعمال ترک کرنے کی غلطی نہیں کی۔عوام کی دین کے ساتھاس بے لوث محبت کے باعث اُن قائدین کے نظریات  اورطرزِعمل کی اہمیت اوربڑھتی ہے جودین کی حاکمیت کی بات کرتے ہیں اورعوام غلبۂ اسلام کے لیے قدم بڑھانے سے پہلے ان کے قول وعمل کودیکھتے ہیں۔ اگریہ دینی جماعتیں قیامِ خلافت جیسی  خالص ومقدس منزل کے  حصول کے لیے عالم کفرسے برآمدشدہ جمہوری رستے کاچناؤ نہ کرتیں بلکہ جمہوریت سے کنارہ کش ہوکرباطل نظام کے خلاف اٹھ  کھڑی ہوتیں، دعوت اورامربالمعروف ونہی عن لمنکر کا فریضہ انجام دیتیں توآج پاکستان کی جہادی تحریک اس قدرکسمپرسی کاشکار ہوتی، نہ لادین قوتیں اتنی زورآور!!!یہ کہناکہ جمہوریت کی مخالفت کرنے سے سیکولرجماعتوں کوفائدہ ہوگاوہی خودفریبی پرمبنی استدلال ہےجوملاکنڈ ڈویژن میں اُس وقت کی سیاسی دینی جماعتوں نے اپنایاتھا،جب جہاداورنفاذشریعت کاعلم بلندکرنے والوں کوان کے سامنے قتل کیاگیا،انہیں بے گھرکیاگیا ،قیدخانے ان سے بھردئیےگئے۔ یہ سیاسی جماعتیں ان کی مدد کرنے سے  شاید یہ سوچ کرپیچھے بیٹھی رہیں کہ تحریک نفاذِشریعت کو تقویت ملنے کافائدہ سیکولرجماعتوں کوہوگاکیونکہ  ان کےووٹ بنک  کواس تحریک سے متاثرہونے کاخدشہ تھا ۔

افراط وتفریط سے بچتے ہوئےعلمی پختگی  کی ضرورت ہے !

 آگے بڑھنے سے پہلے  یہ  بات ہمیں مدنظررکھنی چاہیے کہ ہمیں افراط وتفریط سے بچنے کی اشدضرورت ہے۔ نہ تویہ دینی  سیاسی جماعتیں جو الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ہماری دشمن ہیں ،کہ ان کو کیانی  اورزرداری کی صف میں کھڑاکرکےکافر قرار دے دیا جائے، اورنہ ہی انھیں اپنے قائدین کادرجہ دے کر،سرآنکھوں پربٹھاکر، حکومتی مناصب کے حصول میں معاونت دینی چاہیے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ ہمارے اوراُن کے درمیان مشترک قدر اسلام اور اس کے غلبے کی خواہش و جد و جہد  ہے۔ یہ بھی اسی خلافت کواپنی منزل گردانتے ہیں جس کے لیے ہم اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ اس نسبت سے یہ ہمارے حلیف ہیں ، باوجود اس کے کہ انہوں نے اس کے لیے لادینیت پر مبنی راستہ اپنایا ہے۔اب  اس عظیم قدرِ مشترک کی بنیاد پر ان کے جمہوریت میں شمولیت کے عمل پر نقد کو ان سے دشمنی برتنا نہیں سمجھناچاہیئے اورنہ ہمیں اس تنقیدمیں ایسی شدت لانی چاہیے کہ ایک مسلمان جماعت کے لیے لازم ’’ولاء(محبت، وفاداری، دوستی)‘‘ کے دینی تقاضوں کو بھول بیٹھیں۔ ان پرہماری تنقیدمیں نفرت نہیں بلکہ خیرخواہی اورہمدردی کے جذبات غالب رہنے چاہئیں!

Wednesday, March 27, 2013

قوت مطلوب ہے


علی احمد
" جہاں تک ہو سکے قوت سے (فوج کی جمیعت  اور اسلحے سے) اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے مقابلہ کے لئے مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پرجن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے۔"(سورہ الانفال)
قوت و طاقت اللہ سبحانہ تعالیٰ نزدیک پسندیدہ خوبی ہے ۔ نبیﷺ کے فرمان کے مطابق "طاقتور مسلمان(دین میں) اللہ کے نزدیک افضل ہے"۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے، اب خلیفہ سے لامحالہ یہ ہی توقع کی جائے گی کہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ سبحانہ تعالیٰ کا قانون نافذ کرے، یہی اس کی ذمہ داری بنتی ہے۔ایک کمزور مسلمان جو کہ خود بھی ناتواں ہو اور اس کی پشت پر کوئی طاقتور جماعت بھی نہ ہو، وہ اللہ کا قانون کیا نافذ کرے گا، بلکہ وہ تو حق کے نظریات کا پرچار کرتے ہوئے بھی خوف کھائےگا۔ اگر باطل پرستوں کے سامنے حق کی بات کرے گا بھی تواس بات کا یقینی  خیال رکھے گا کہ کوئی ایسا لفظ منہ سے نہ نکل جائےکہ سامنے والا بُرا مان جائے اور اشتعال میں آکر نقصان پہنچا دے ۔ (انبیاء کا معاملہ اس سے مختلف ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کوبے انتہا ایمانی قوت کے ساتھ مبعوث کیا )۔ تاریخ اس بات پر بھی شاہدہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دین کو غالب کرنے کا کام طاقتور مسلمانوں سے ہی لیا ہے اور ان کو ایمان کی قوت سے اور مضبوط کر کے بہت تھوڑی جماعت کو بڑے بڑے لشکروں پرفتح دی ہے۔ کفر اور ایمان کی ٹکر اِس دنیا کے قائم ہونے کے وقت سے ہے اورقیامت تک رہے گی کیونکہ اسلام کا مزاج غلبے والا ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے چنے ہوئے بندوں کی ایک قلیل جماعت کودین کے غلبے کے لئے اٹھاتا رہا ہے اور اٹھاتا رہے گا۔ قرآن و حدیث اس کا یقین دلاتے ہیں کہ "اللہ تو اپنے دین کو غالب کر کے رہے گا چاہے مشرکوں کو برا ہی لگے"۔
اب جس کو خلیفۃ اللہ کا منصب پسند ہے اور دارالعمل میں کامیاب ہو کر دارالجزاء میں اعلی ٰدرجات کا حقدار بننا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ اپنی قوت و طاقت میں ہر ممکن طریقہ سے اضافہ کرے اور ایمان والوں کی جماعت میں شامل ہو کر اسے مضبوط کرے۔ جیسا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ"تم جماعت کولازم پکڑ لو"۔
آج کے اس پر فتن دور میں جبکہ طاغوتی قوتیں ہر طرح سے منظم اور مضبوط ہیں ، نظام زندگی کے تمام شعبے ان کی گرفت میں ہیں ۔ حکومتیں اور افواج ان کے پاس ہیں۔عدالتوں میں ان کا بنایا ہوا قانون چلتا ہے۔ میڈیا اور نظام تعلیم ان کے قبضے میں ہیں جن کے ذریعے وہ باآسانی نئی نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں۔اسلام کے مقابلے میں جمہوریت کونظام زندگی کے طور پر نافذ کر کے معاشرے پر اپنی گرفت مضبوط کی ہوئی ہے۔ ہر طرح کی بے راہ روی اور فحاشی کو حکومتی سرپرستی میں فروغ دے کرسماجی، اخلاقی و اسلامی اقدار کو ڈھا دیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ طاقت و غلبے کی کوئی ضرورت نہیں ہم ڈایئلاگ کے ذریعے اور جمہوری عمل میں شریک ہو کر معاشرے کو بدل دیں گے اور اسلام کودنیا میں غالب کر لیں گے تو اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود فریبی و خام خیالی میں مبتلا ہے اور بہت جلداپنا وقت پورا کرکے اللہ کے سامنے حاضر ہو گا پھر اللہ اس کو سب کچھ جو وہ کرتا تھا صاف صاف بتا دے گا۔

Wednesday, March 20, 2013

زرداری، خامنائی گیس پائپ لائن معاہدہ



امریکی ناراضگی، امریکہ کی جانب سے معاشی پابندیاں، بلوچستان میں سیکورٹی کا مسئلہ، سرمایہ کی عدم فراہمی، مہنگی قیمت خرید۔۔۔ ان تمام خدشات کے باوجود ۱۹۹۵ء سے ہوا میں معلق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا دونوں ممالک کے صدور کے ہاتھوں افتتاح یقیناً ایک حیران کن امر ہے۔ ونزویلا کے صدر ہوگو شاویز کی موت کے بعد کیا اب زرداری صاحب ہوگوشاویز بننے جا رہے ہیں یہ تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔تو کیا پھر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے امریکہ سے خلع لینے کا فیصلہ کر لیا؟ لیکن یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔ بلکہ یہ تو شکست خوردہ امریکی افواج کے افغانستان میں بچے کھچے سامان کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی ائیر پورٹ پر امریکی کمپاؤنڈ کی تعمیر، اسلام آباد میں سفارت خانے کے نام پر امریکی چھاؤنی کا قیام، پاکستان میں تعلیم، پولیس، میڈیا، فوجی و سول افسران کی تربیت  اور دیگر شعبوں میں روز بروز بڑھتا امریکی رسوخ اور نگران وزیرِ اعظم تک کی تعیناتی میں امریکی کردار تو بتا رہا ہے کہ ہمارا وطنِ عزیز تا حال امریکی ریاست کے طور پر ہی چل رہا ہے۔ کیا یہ کہا جاۓ کہ حکومت نے پاکستان میں موجود توانائی کے بحران کو سنجیدگی سے لیتے ہوۓ اس کے حل کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے تو بات سیدھی یہ ہے کہ رینٹل پاور پراجیکٹ میں کرپشن، ایل پی جی سیکنڈل، سوئی گیس کی سیاسی مقاصد پر تقسیم، کالا باغ ڈٰیم کا مسئلہ، خزانے میں کرپشن کی وجہ سے ایندھن کی بجلی گھروں کو عدم فراہمی،  بحران تو خود پیدا کردہ ہی ان کا ہے۔
 ویسے بھی معاہدے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جاۓ تو معاشی حوالے سے اس میں پاکستان کا خسارہ ہے اور قوی امکان ہے کہ گیس نرخوں میں ہوشربا  اضافے کی وجہ سے عوام کی معاشی مشکلات مزید بڑھیں گی۔ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ڈیڑھ بلین ڈالر کی رقم درکار ہے۔ اس میں سے ۵۰۰ ملین ڈالر ایران دو فیصد شرح سود مع لندن انٹر بینک ریٹ  پر پاکستان کو قرض دے رہا ہے۔ باقی ایک بلین ڈالر کی رقم پاکستانی عوام سے ٹیکسوں کی صورت میں وصول کی جاۓ گی۔ منصوبے پر کام کا ٹھیکہ ایک ایرانی کمپنی تدبیر کو دیا گیا ہے یقیناً اس کا فائدہ بھی ایرانی معیشت ہی کو ہو گا۔ اس کے علاوہ پائپ لائن کو بلوچستان کے علاقوں میں تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر مستقل سرمایہ درکار ہو گا۔ یہ تمام قیمت بھی گیس کے بلوں میں اضافے کی صورت میں عوام دے گی اور پھر گیس کے جو نرخ ایران دے رہا ہے وہ کہیں زیادہ ہیں۔ گیس کی قیمت اندازاً ۱۲ ڈالر فی ایم بی ٹی یو اور مائع گیس کی ۱۸ ڈالر ہو گی۔ حالانکہ اگر امریکہ سے بھی گیس پاکستان منگوائی جاۓ تو وہاں کے نرخ کے مطابق مائع گیس کی قیمت ۸ ڈالر تک ہونی چاہیے۔  اب ایندھن کی اتنی گراں قیمت کا باقی اشیاء کی قیمتوں پر کیا اثر ہو گا یہ خود سمجھا جا سکتا ہے۔  جبکہ فی الوقت پاکستان میں توانائی کی فراہمی کے کئی متبادل اور سستے منصوبے قابلِ عمل ہیں۔

Sunday, March 10, 2013

لا دینیت کے داعی____ مسلمان معاشرے کے لیے بڑا خطرہ



تحریر: عبداللہ حفیظ
خلافت کے خاتمے اور پھر پے در پے باطل نظاموں-نو آبادیاتی نظام، روسی کمیونزم اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام -کے تسلط نے امتِ مسلمہ میں سے ایک طبقے کےذہن کو باطل نظریات سے اس قدر کثیف کر دیا ہے کہ ان کے یہاں معیارات، اصطلاحات و تشریحات تک بدل کر رہ گئیں۔ وہ امت جس کے لئے چودہ سو سال تک آئین صرف آئینِ پیغمبری ہی تھا جس کے مصادر بالاِجماع قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس ہی رہے،آج یہ طبقہ ہر خطے میں ایسے جدید آئین کی تلاش میں سرگرداں ہے جو ان کو’ترقی‘ کی اوج تک پہنچا دے۔جس امت نےرومیوں، فارسیوں اور مشرکین کے تخلیق کردہ عہدِ جاہلیت کو منزّہ عقائد، منوّر علم،  روشن اقدار اوراخلاق و عبادات میں للٰہیت سے تبدیل کر کے رکھ دیا آج اسی امت میں سے افراد اپنے لیے مغرب سے چراغ ادھار مانگ رہے ہیں۔ جس امت کو اللہ تعالیٰ نے نبیٔ  امیﷺ سے نوازا ،جنہوں نے انسان کو اس کا درست مقام دکھایا، جن کی وجہ سے ایمان لانے والے اس قدر بلند ہو گئے کہ دورِ جاہلیت میں محض ایک حبشی غلام سمجھے جانے والے بلالؓ فتح مکہ کےروز بیت اللہ کی چھت پر کھڑے اذان کہہ رہے تھے،  آج اسی میں سے لوگ نکل نکل کر اہلِ کفر کے در پر جا بیٹھے ہیں۔ حالانکہ اہلِ مغرب کا حال تو یہ ہے کہقد ضلوا من قبل وأضلوا كثيرا وضلوا عن سواء السبيل(وہگمراہ ہو چکے پہلے اور گمراہ کر گئے بہتوں کو اور بہک گئے سیدھی راہ سے)۔

Wednesday, March 06, 2013

پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی شب و روز محنت

تحریر: عبد اللہ حفیظ

لڑکی! تمہارا خواب کیا ہے؟
تمہارا مستقبل روشن ہے
یہ تو تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے
یا یہ کہ تمہاری آواز دبا دی گئی ہے؟
اس دنیا میں انصاف نہیں ہے
لیکن کوشش جاری ہے
ہم مل کر کچھ کر سکتے ہیں
ہم آزاد اور بے خوف ہیں
لڑکیو! لڑکیو! امید رکھو
لڑکیو! عنقریب تبدیلی آۓ گی
یہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر موجود ایک ویڈیو  گانے کے الفاظ ہیں۔ ویڈیو میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک امریکی عورت معصوم پاکستانی بچیوں کو لیے ایک پاکستانی ستار نواز کے ساتھ  یہ گانا گا رہی ہے۔ گانے کی مقصدیت اس کے الفاظ سے واضح ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی اسلام کے خلاف کثیر جہتی صلیبی جنگ چھیڑے ہوۓ ہیں۔ اس جنگ کے تحت جہاں ایک طرف افغانستان، عراق، یمن، صومالیہ،  پاکستان کے قبائلی علاقوں میں  امریکی افواج کے حملے برس ہا برس سے جاری ہیں وہیں دوسری طرف ثقافتی، تعلیمی، معاشرتی سطح پر بھی اسلام کے تشخص کو بگاڑنے اور مسلم قلوب و اذہان   میں مغربی اقدار کی   فوقیت بٹھانے کے لیے بے شمار نرم طریقے اپناۓ جا رہے ہیں۔ اسلام کے دشمن یہ جانتے ہیں کہ اسلام کی ان میدانوں میں تعلیمات ایک مسلمان کو وہ مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں جس  سےوہ کفر و الحاد کے سامنے نہتا سینہ سپر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جہاں دینی غیرت و حمیت کے حامل مجاہدین اور علماۓ ربّانی ان کی براہِ راست جنگ   کا ہدف ہیں وہیں ساتھ ہی ساتھ وہ مسلم معاشرہ بھی ان کی بالواسطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے جو دین کے دفاع میں کھلنے والے محاذوں کو افراد فراہم کرتا ہے۔  اس میں بھی زیادہ توجہ مسلمان عورتوں پر دی جا رہی ہیں کیونکہ ان کی شخصیت مستقبل کے مسلمان معاشرے کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
اسلام
کے خلاف قلوب و اذہان کی جنگ میں مسلم دنیا میں کھلے امریکی و یورپی سفارت خانے کفر کے مضبوط ترین مورچے ہیں جو ترقی و تعاون کے نام سے اپنی سرگرمیوں کو مسلم معاشروں کے قلب تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانہ  ان سرگرمیوں میں کافی پیش پیش نظر آتا ہے۔ ایک طرف یہ سفارت خانہ افغانستان و پاکستان میں جاری اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کا علاقائی صدر دفتر بنا ہوا اور دوسری طرف پاکستان میں سیاسی، ابلاغاتی، تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کو بھی یہی سفارت خانہ براہِ راست کنٹرول کر رہا ہے۔
تعلیمی میدان میں دیکھا جاۓ تو نصاب کی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت کے پروگرام امریکی سرپرستی میں طے پا رہے ہیں۔  حال ہی میں امریکہ نے یونیورسٹی آف ہزارہ، مانسہرہ میں ڈیڑھ ملین ڈالر کی لاگت سے فیکلٹی آف ایجوکیشن قائم کی۔ اگلے دو سالوں میں ۱۵ ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان بھر میں ایسی سات فیکلٹیز مزید قائم کی جائیں گی۔ اسی طرح پاکستانی نوجوانوں کے لیے امریکہ میں تعلیم کے لیے وظائف کا اجراء   کیا جاتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے فُل برائٹ سکالرشپ کے علاوہ   یوتھ ایکسچینج اینڈ سٹڈی پروگرام (YES)، نوجوانوں کے تبادلے اور مطالعاتی کینیڈی لوگر  پروگرام کے تحت ہر سال سو لڑکوں اور لڑکیوں کو ہائی سکول کی تعلیم کے لیے امریکہ بھیجا جا رہا ہے۔  وظیفہ حاصل کرنے والے طلباء میں لڑکیوں کا تناسب ۶۰ فیصد ہے اس کے علاوہ سندھ اور خیبر پختونخواہ سے زیادہ امیدوار منتخب کیے جاتے ہیں تا کہ یہ خطے بھی امریکی "جدّت پسندی" سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ اس پروگرام میں حصہ لینے والے راولپنڈی کے نوجوان عرفان طاہر نے کہا کہ اس پروگرام میں حصہ لینے کے بعد اس کا تصور تبدیل ہو گیا ہے۔امریکہ میں رہنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ تمام امریکی پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں لیکن اب میں جانتا ہوں کہ وہ مخلص اور وفادار لوگ ہیں۔ میرے خیال میں امریکی مہم براۓ تعلیم کے مقصد کو واضح کرنے کے لیے یہ جملہ کافی ہے۔   پولیس، بیوروکریسی، فوجی افسران کی تربیت کے پروگرام اس کے علاوہ ہیں جس کے اثرات یہ ہیں کہ پوری ریاستی مشینری امریکی مفادات کے تحفظ میں صرف ہو رہی ہے۔